ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی کامتبادل صرف راہل گاندھی ہی ہوسکتے ہیں: کانگریس

مودی کامتبادل صرف راہل گاندھی ہی ہوسکتے ہیں: کانگریس

Sun, 04 Feb 2018 19:49:09    S.O. News Service

نئی دہلی،4فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو چیلنج کرنے کے لئے اپوزیشن کی یکجہتی کو لے کر چل رہی کوششوں کے درمیان کانگریس نے آج کہا کہ وہی (کانگریس) اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کا محور بنے گی اور صرف راہل گاندھی وزیر اعظم نریندر مودی کا متبادل ہوں گے۔کانگریس کے میڈیا سیکشن کے سربراہ اور چیف ترجمان رندیپ سرجیوالا نے انٹرویو میں دعوی کیا کہ مودی جی کا متبادل صرف اور صرف راہل جی ہیں، کوئی اور نہیں ہو سکتا کانگریس اور ملک کے لوگوں کو ملک کے اگلے وزیر اعظم راہل جی دیکھناچاہتے ہیں۔اس سوال کے جواب میں سرجیوالا نے کہاکہ اگلے انتخابات میں وزیراعظم مودی کا متبادل کون ہوگا؟ انہوں نے کہاہے وہ آج دوماڈل ہیں ... مودی ماڈل (جس میں وہ) دن میں چھ بار کپڑے تبدیل کرتے ہیں، اپنے کپڑے کی کریزبھی خراب نہیں ہونے دیتے، اپنے ملبوسات پر جتنا وقت لگاتے ہیں شاید حکومت پر اتنا وقت نہیں لگاتے۔دوسرا ماڈل راہل گاندھی ہے، جو سادگی، صفائی اور انصاف پر مبنی ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی بیباکی، شفافیت اور سیاست میں ایمانداری کے لئے مشہور ہوئے ہیں، وہ سخت فیصلے لینے سے بھی کبھی نہیں ڈرتے۔اپوزیشن کے اتحاد کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ بی جے ڈی، شیوسینا اور اب ٹی ڈی پی آہستہ آہستہ این ڈی اے سے الگ ہو رہے ہیں جبکہ کانگریس مختلف جماعتوں کے اتحاد کا محور بنتی جارہی ہے۔یہ اتحاد 2019 میں تبدیلی کیلئے بنیاد بنے گا۔مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی طرف سے پارلیمنٹ میں پیش عام بجٹ میں مڈل کلاس کو مایوسی ہاتھ لگنے کے الزامات کے بارے میں پوچھے جانے پر سرجیوالا نے کہا کہ مودی حکومت نے مڈل کلاس اور نوکری پیشہ لوگوں کو صرف جملوں سے ٹھگا ہے، دیا کچھ نہیں،نوٹ بندی اورجی ایس ٹی کی سب سے بڑی مار بھی اس طبقے پر سب سے زیادہ پڑی۔انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کے مطابق یہ طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس فراہم کرتا ہے، وہ سوچتے ہیں کہ سب سے امیر یہی طبقہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب سے زیادہ محنت اور ایماندار طبقہ یہی ہے۔ اس طبقے کو آج مہنگائی کی سب سے زیادہ قیمت چکانی پڑہی ہے، لہٰذادرمیانی طبقے نے یہ بات اچھی طرح سمجھ لی ہے کہ مودی حکومت میں باتیں بہت زیادہ ہیں اور کام کچھ بھی نہیں۔اس سال کرناٹک سمیت آٹھ ریاستوں میں ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی حکمت عملی پوچھے جانے پر سرجیوالا نے کہاکہ ترقی کے لحاظ سے سب سے اہم ریاست کرناٹک میں کانگریس دوبارہ اقتدار میں آئے گی، ایسا ہمارا یقین ہے، ہم نے جس طرح سے کرناٹک میں ترقی کا ایک ماڈل پیش کیا ہے، چاہے وہ ای وے بل ہو یا کرناٹک حکومت کے دیگر منصوبے ہوں، اب ہندوستانی سرکار بھی مانتی ہے کہ ان کا پورے ملک میں نفاذ ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان وغیرہ میں جو الیکشن ہوں گے، ان کا ٹریلر دو دن پہلے راجستھان کے ضمنی انتخابات میں آچکا جہاں کانگریس نے دو لوک سبھا اور ایک اسمبلی سیٹ جیتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ غصہ صرف وسندھرا حکومت کے خلاف نہیں ہے، یہ مودی حکومت اور ریاستی حکومت کی طرف سے ٹھگے گئے لوگوں کی طرف سے کانگریس کو واپس لانے کا ایک منصوبہ ہے۔


Share: